Table of Contents
Captain Karnal Sher Khan
| 1 |
خاندانی حدوداربعہ کرنل شیر سے کرنل شیر تک لڑکپن کی کہانی یادوں کی برسات | 17 |
| 2 |
پاک فضائیہ کی دہلیز پر ائیر مین کے شپ وروز پری ٹریڈٹریننگ سکول قہقہوں کی زندہ کہانی | 27 |
| 3 |
رسالپور سے کراچی تک سکول آف ایروناٹکس میں حلف اٹھاتا ہوں! چند بھولی بسری یادیں | 39 |
| 4 |
90- واں لانگ کورس 27 سندھ رجمنٹ 12 ناردرن لائٹ انفنٹری پہاڑوں کی چٹانوں پر پرانے خواب کی تعبیر سوری سر! رانگ ڈائلنگ | 51 |
| 5 |
کرنل شیر، سامان باندھتے ہیں خالد نذیر کی کمان آٹھ سکھ بٹالین کا ایک خط کارگل میں آخری معرکہ | 79 |

| 6 |
کشمیر آزاد ہوگیا ہے؟ کرنل شیر کی امامت شہید مہمان کی سج دھج | 95 |
| 7 |
شہید کا استقبال ویل ڈن بھائی چار بج کر چھبیس منٹ نشان حیدر | 101 |
| 8 |
بہادری کا استعارہ کمانڈنگ آفسیر کا مان خاندان شہداء چھوٹا شیر ڈیرہ اسمعیل خان شیر کا گاؤں | 111 |
| 9 |
کیڈٹ کالج کرنل شیر خان گورستان شیرخان کی پہلی مہمان نوازی | 120 |
| 10 |
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس حکومت پاکستان کا شیر شہید کی ڈائری میں لکھا آخری شعر | 128 |
| 11 |
سوانحی خاکہ ابتدائی زندگی شیر اور فوج آخری لمحات | 134 |
| 12 |
یادوں کے دریچے عقیدت کے پھول | 139 |

شاید اسی لیے ایک مردِ درویش نے کہا تھا کہ پاکستان، کعبہ کی بیٹی (مسجد) کی طرح مقدس ہے
اور اس کے استحکام و دوام، تعمیر و ترقی، اور حرمت و شان کے لیے جان لڑا دینا عین جہاد
اور امتِ مسلمہ کا دینی فرض ہے۔
اس کا غدار کسی صورت بھی اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا وفادار نہیں ہو سکتا، دراصل یہ محبوبِ خدا کا پاکستان ہے۔
اس کا غدار کسی صورت بھی اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا وفادار نہیں ہو سکتا، دراصل یہ محبوبِ خدا کا پاکستان ہے۔

1948ء کی بات ہے کہ ہندو ڈوگرہ سامراج، کشمیر کی تقدیر کو الجھانے پر تلا ہوا تھا۔
چہار سو ظلم و تشدد اور قتل و غارتگری کا بازار رہتا۔ کشمیر جنت نظر کی ہوائیں اور فضائیں
مکمل طور پر سوگوار ہوچکی تھیں۔ یہ غیور و جسور پھٹان غم و غصے کی شدت میں جل اٹھتا،
تلوار پکڑتا، اپنے قبیلہ کو بلاتا اور جانباز ساتھیوں کو ہمراہ لے کر بے بس و بیکس مسلمان
بھائیوں کی مدد کو کشمیر جا پہنچتا ہے۔ کشمیر جو آگ میں جل رہا تھا۔
اس وقت قبائلی مجاہدین جب کشمیر پہنچتے ہیں تو زیادہ تر کے ہاتھوں میں کہاڑیاں اور تلواریں تھیں۔ چند کے پاس مشکیں تھی، دیگر کے پاس لاٹھیاں۔ حفاظتی رکاوٹوں پر موجود مہاراجہ کے محافظ غائب ہوچکے تھے۔ سب سے پہلی جھڑپیں مظفر آباد کے راستے میں ہوئیں۔ زیادہ تر سرحدی قبائلی جن میں وزیر، محسود، طوری، آفریدی، مہمند اور ملاکنڈ کے یوسف زئی شامل تھے۔ تقریباً 2000 قبائلیوں نے علی الصبح مظفر آباد پر دھاوا بولا اور وہاں تعینات کشمیر ریاستی فوج کو آسانی سے بکھیر کر رکھ دیا۔
اس وقت قبائلی مجاہدین جب کشمیر پہنچتے ہیں تو زیادہ تر کے ہاتھوں میں کہاڑیاں اور تلواریں تھیں۔ چند کے پاس مشکیں تھی، دیگر کے پاس لاٹھیاں۔ حفاظتی رکاوٹوں پر موجود مہاراجہ کے محافظ غائب ہوچکے تھے۔ سب سے پہلی جھڑپیں مظفر آباد کے راستے میں ہوئیں۔ زیادہ تر سرحدی قبائلی جن میں وزیر، محسود، طوری، آفریدی، مہمند اور ملاکنڈ کے یوسف زئی شامل تھے۔ تقریباً 2000 قبائلیوں نے علی الصبح مظفر آباد پر دھاوا بولا اور وہاں تعینات کشمیر ریاستی فوج کو آسانی سے بکھیر کر رکھ دیا۔

اس موقع پر پاکستان کی قبائلی مجاہدین کی مدد سے سری نگر پر باقاعدہ حملہ کرنے کی کوشش
برٹش جوائنٹ کمانڈ کی مخالفت کی وجہ سے ناکام رہی، جس میں اس وقت تک انڈیا اور پاکستان
کی فوجی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ نومبر کے اختتام تک زیادہ تر قبائلی مجاہدین کو اوڑی کے راستے
واپس بلالیا گیا تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں دریائے جہلم کا پاٹ تنگ ہو جاتا ہے اور وہاں دفاع آسان ہے۔
اس کے فوراً بعد سردیوں کی برف پڑگئی، جس سے مظفر آباد کی جانب انڈیا کی پیش قدمی رک گئی۔ یہاں وہ لکیر کھینچی گئی جو کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرتی ہے۔ سنہ 1948 کے موسم بہار میں پاکستانی فورسز نے باقاعدہ اس مقام پر آکر سرحد کا انتظام سنبھالا تھا۔
اس کے فوراً بعد سردیوں کی برف پڑگئی، جس سے مظفر آباد کی جانب انڈیا کی پیش قدمی رک گئی۔ یہاں وہ لکیر کھینچی گئی جو کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرتی ہے۔ سنہ 1948 کے موسم بہار میں پاکستانی فورسز نے باقاعدہ اس مقام پر آکر سرحد کا انتظام سنبھالا تھا۔

ایبٹ آباد کے فلک بوس پہاڑوں کے جھرمٹ میں آباد یہ اکیڈمی، پاک آرمی کے آفیسرز کا ٹریننگ سنٹر ہے۔
آئی ایس ایس بی سے منتخب شدہ امیدواروں کو پیشہ ورانہ تربیت کے لیے یہاں بھیجا جاتا ہے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی 1220 میٹر (4000 فٹ) کی بلندی پر ایبٹ آباد میں واقع ہے۔ 1853ء میں برطانوی ایڈمنسٹر یٹر جیمز ایبٹ کے نام سے منسوب ایبٹ آباد، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ہزارہ میں واقع ایک شہر ہے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی 1220 میٹر (4000 فٹ) کی بلندی پر ایبٹ آباد میں واقع ہے۔ 1853ء میں برطانوی ایڈمنسٹر یٹر جیمز ایبٹ کے نام سے منسوب ایبٹ آباد، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ہزارہ میں واقع ایک شہر ہے۔

ملٹری اکیڈمی کاکول کی دوسری بٹالین دسبر 1965 کو قائم کی گئی۔
یہ بٹالین غزنوی، بابر، اورنگ زیب اور ٹیپو نامی چار کمپنیوں پر مشتمل ہے۔

جہاز کے پائلٹ فلائیٹ لیفٹیننٹ کمبم پتی ناچی کیتا کو جنگی قیدی بنالیا گیا۔
اس پائلٹ کو پاکستان نے کچھ عرصہ پاس رکھا اور بعد ازاں بھارتی حکام کے حوالے کر دیا۔

پاکستان کا سب سے بڑا اور اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر، اب تک وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے 10 فوجی اور افسروں کو دیا جا چکا ہے۔
ایک جوان کو نشان حیدر کے ہم پلہ اور برابر درجہ حاصل کرنے والے ہلال کشمیر سے بھی نوازا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 11 فوجی جوان و افسران ایسے ہیں جو پاکستان کے سب سے بڑے اور اعلیٰ ترین فوجی اعزاز کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
16 مارچ 1957 کو نشان حیدر پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز قرار پایا اور مسلح افواج کے جوانوں کی لازوال قربانیوں کے صلے میں دینے کے لیے منظور کیا گیا۔ فوج کے 10 شہداء کو مل چکا ہے جنہوں نے وطن کی خاطر بہادری کی تاریخ رقم کی۔
نشان حیدر پاکستان منٹ (سکے بنانے کی سرکاری جگہ) میں وزارت دفاع کے آرڈر پر بنایا جاتا ہے۔
16 مارچ 1957 کو نشان حیدر پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز قرار پایا اور مسلح افواج کے جوانوں کی لازوال قربانیوں کے صلے میں دینے کے لیے منظور کیا گیا۔ فوج کے 10 شہداء کو مل چکا ہے جنہوں نے وطن کی خاطر بہادری کی تاریخ رقم کی۔
نشان حیدر پاکستان منٹ (سکے بنانے کی سرکاری جگہ) میں وزارت دفاع کے آرڈر پر بنایا جاتا ہے۔



