Havaldar Lalak Jan

Havaldar Lalak Jan 1

Havaldar Lalak Jan

نمبرعنوانصفحہ
1 ہندور
شمالی علاقہ تاریخ کے آئینے میں
این ایل آئی – قیام سے کارگل
14
2 مئورنگ کے رنگ
دوہٹ کی کہانی
چار ستونوں والی چھت
25
3 عبد اللہ جان سے لالک جان
آہوں کی راہ گزر
بصرہ سے ہندور تک
31
4 موت سے جیت
دوہٹ میں دوہٹ
ممتا کی آخری مہر
37
5 بوسنیا اور کشمیر
کھلی کچہری
طارق عزیز کی ولادت
53
6 گل جہاں منوں مٹی تلے
زندگی کے دو آنسو
قدرِ مشترک
62

Havaldar Lalak Jan 2

نمبرعنوانصفحہ
7 لائن آف کنٹرول
بہن کا شگن
دوسرا تجربہ
66
8 کمپنی حوالدار میجر
فیلڈ ہاسپٹل گلگت
بلاوے کا لیٹر
70
9 کارگل و سیاچن کا محاذ
زندگی اور جنگ
75
10 لالے کی جان
آگ بارود کی مہک
شہید کی سج دھج
گرڈر یفرنس
90
11 نعشوں سے چھٹکارا
22 ستمبر اور سفید تابوت
نشانِ حیدر
سعدی زیارت
96
12 میرا بیٹا، میرا بھائی
ھویالترس
کارگل کیا ہے؟
ہدیۂ عقیدت
111
13 گلسمبر کیا کہتے ہیں؟111

Havaldar Lalak Jan 3

بوسنیائی جنگ سنہ 1990 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے بکھرنے کے دوران ہونے والے کئی مسلح تنازعات میں سے ایک تھی۔ اس وقت سوشلسٹ ریپبلک آف بوسنیا اینڈ ہرزیگو وینا کہلانے والی یہ ریاست یوگو سلاویہ کا حصہ تھی اور یہاں کئی اقوام آباد تھیں جن میں بوسنیائی مسلمان، قدامت پسند سرب اور کیھتولک کروٹ افراد شامل تھے۔ بعد میں بوسنیا ہر زیگو وینا نے سنہ 1992 میں ایک ریفرینڈم کے زریعے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا اور اسے کچھ عرصے بعد امریکی اور یورپی حکومتوں نے تسلیم کر لیا۔ مگر بوسنیائی سرب آبادی نے ریفر ینڈم کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔اس کے بعد جلد ہی سر بیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے نئے تخلیق شدہ اس ملک پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے اس علاقے سے بوسنیائی لوگوں کو نکالنا شروع کر دیا تاکہ “گریٹر سربیا” بنایا جا سکے۔ یہ پالیسی نسلی کشی کے مترادف تھی۔ بوسنیائی لوگ اکثریتی طور مسلمان ہوتے ہیں اور یہ بوسنیائی سلاو نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے قرون وسطیٰ کے دور میں عثمانی ترک حکمرانی کے عرصے میں اسلام قبول کیا تھا۔بوسنیائی سرب فوجیوں نے 1992 میں سر برینکیا پر قبضہ کر لیا تھا مگر فوراً بعد ہی اسے بوسنیائی فوج نے دوبارہ حاصل کر لیا۔ فریقوں کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ شہر محاصرے میں چلا گیا۔ اپریل 1993 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس علاقے کو “کسی بھی مسلح حملے یا کسی دیگر دشمنانہ کارروائی سے محفوظ علاقہ” قرار دے دیا۔ مگر محاصرہ جاری رہا۔شہریوں اور اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے پور کام کر رہے ڈچ فوجیوں کی چھوٹی سی فورس کے لیے رسد ختم ہونی شروع ہو گئی۔ بوسنیائی رہائشی بھوک سے مرنے لگے۔ چھ جولائی سنہ 1995 کو بوسنیا کی سرب فورسز نے سر یبرینکیا پر شدومد کے ساتھ حملہ کیا۔

Havaldar Lalak Jan 4

یہ انکلیوں پانچ دنوں میں ہی ان کے قبضے میں آگیا۔ جنرل ملادچ دوسرے جرنیلوں کے ساتھ شہر میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے اور گشت کیا۔ تقریباً 20 ہزار مہاجرین اقوام متحدہ کے مرکزی ڈچ کیمپ کی جانب فرار ہوگئے۔ اس کے دوسرے دن ہی قتل و غارت گری کا آغاز ہو گیا۔ جب مسلمان پناہ گزینوں نے شہر چھوڑنے کے لیے بسوں پر سوار ہوئے تو بوسنیا کی سرب فورسز نے مردوں اور لڑکوں کو بھیڑ سے علیحدہ کیا اور انھیں وہاں سے دور لے گئے تاکہ انھیں گولی مار کر ہلاک کریں۔

Havaldar Lalak Jan 5

میجر سر مس رؤف، کرنل شیر اور لالک جان شہید نشانِ حیدر کے ہمراہ بارہ این ایل آئی کا حصہ تھے اور بہادری سے اپنی پوسٹوں کا دفاع کیا۔ وہ زخمی بھی ہوئے اور انہوں نے کارگل کے غاڑی کا مرتبہ پایا۔ یہ مسیحی پاکستانی مجاہد، دہشت گردی کے خلاف دشمنانِ پاکستان سے لڑتے ہوئے آپریشن المیزان میں 13 ستمبر 2007 کو شہید ہوئے اور تمغۂ بسالت کا اعزاز پایا۔

Havaldar Lalak Jan 6

حوالدار لالک جان کی شہادت کے دو ماہ اور سولہ دن بعد ان کا لاشہ پاکستان آرمی کے حوالے کیا۔

Havaldar Lalak Jan 7

لالک جان شہید کے متعلق یہ تمام نشانیاں انڈین آرمی کو بھجوائی گئی تھیں اور انہوں نے ان نشانیوں کو مدنظر رکھ کر ہی شہید کا جسدِ خاکی تلاش کیا تھا۔

Havaldar Lalak Jan 8

یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ جات کی فہرست میں اب تک پاکستان کے صرف چھ مقامات موہنجو داڑو، تخت باہی، قلعہ روہتا، قلعہ لاہور، ٹیکسلا اور مکلی کا قبرستان شامل ہیں۔

Havaldar Lalak Jan 9

Captain Karnal Sher Khan

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top