Table of Contents
9/11 Duniya aur Urdu Afsana ki Takhleeqi Rujhanat
| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| ماورائے سخن: ڈاکٹر سائرہ ارشاد | 7 |
| نائن الیون کا عصری منظرنامہ اور اردو افسانے کا بیانیہ: ڈاکٹر لیاقت علی | 9 |
| نائن الیون: تاریخی پس منظر | 11 |
| اردو افسانے پر نائن الیون کے ثقافتی، تہذیبی اور مذہبی اثرات | 39 |
| مابعد نائن الیون، پاکستان کا عصری آشوب اور اردو افسانہ | 99 |
| حاصلاتِ بحث | 151 |

اسامہ بن لادن 1957ء میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیدا ہوئے۔ اس کے والد کا نام محمد بن عود لادن تھا جو یمن سے ہجرت کرکے سعودی عرب مقیم ہوئے۔ وہاں سعودی خاندان کے ساتھ ان کے گہرے مراسم قائم رہے۔
اسامہ بن لادن کے والد نے “مسجد نبوی” کی تعمیر و توسیع میں کروڑوں ڈالر صرف کیے۔ لادن خاندان کو تین مقدس مقامات کی تعمیر و توسیع کا شرف حاصل ہے جن میں “بیت الحرام”، “مسجد نبوی” اور “بیت المقدس” شامل ہیں۔ محمد بن عود لادن نے سعودی عرب میں چار شادیاں کیں۔ اسامہ بن لادن کی والدہ شام سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہوں نے اپنے اس اکلوتے بیٹے کی تعلیم و تربیت جہادی انداز میں کی۔ اسامہ نے ابتدائی تعلیم جدہ میں حاصل کی۔ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ کا بھی مطالعہ کیا جن میں خاص طور پر جہاد کی اہمیت بیان کی گئی تھی۔ اسامہ کی جہاد کے حوالے سے تقریروں اور انقلاب پسندی کی وجہ سے سعودی حکومت نے ان کی شہریت منسوخ کر دی اور ملک بدر کا حکم صادر کر دیا۔ چنانچہ اسامہ بن لادن نے سعودی عرب چھوڑ کر سوڈان کا رخ کیا۔ وہاں ان کی جہادی سرگرمیوں کی وجہ سے سوڈانی حکومت نے بھی ملک بدر کر دیا۔ اس کے بعد اسامہ بن لادن نے افغانستان کا رخ کیا۔ یہاں انہوں نے افغان، پاکستانی اور عرب مجاہدین کی مالی و تربیتی معاونت شروع کی۔
16 اکتوبر 2001ء کو برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اعلان کیا کہ ناقابل تردید ثبوت مل گئے ہیں کہ 11 ستمبر کے حملوں میں اسامہ اور القاعدہ ملوث ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ 19 میں سے 3 ہائی جیکروں کی حقیقی شناخت ہو چکی ہے جو اسامہ کے قریبی ساتھی تھے، نیز ان میں سے 15 کے متعلق یہ اطلاع ملی کہ وہ سعودی عرب سے تعلق رکھتے تھے۔


“پاکستان کو آئی این ایس کی لسٹ سے نکالا جائے۔ گرفتار پاکستانیوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان سے امتیازی سلوک بند کیا جائے۔ ہم آپ کے ساتھ فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار افغانستان میں ادا کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور ہمارے ایٹمی پروگرام کے خلاف بے بنیاد پرپیگنڈہ بند کیا جائے۔ ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ پاکستان سرد جنگ میں بھی آپ کا اتحادی تھا اور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔” (29)

10 مئی 1940ء کو ماسکو میں چیکو سلواکیہ کے سفارت خانے کی ایک تقریب میں روس کے وزیرِ اعظم نکتا خروشیف نے پاکستانی کونسلر سلمان احمد علی کو دھمکی دی اور کہا:
“اگر آپ امریکیوں کو روس پرواز کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیتے رہے تو ہم نہ صرف ان طیاروں کو مار گرائیں گے بلکہ آپ اور اڈوں کو بھی نشانہ بننا پڑے گا۔”(34)
عراق پر امریکہ کے حملوں کا مقصد یہ بتایا گیا کہ وہاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کا اصل سبب “معیشت” ہے۔ عراق میں توانائی کے وسائل تک رسائی حاصل کرنے کا مؤثر ذریعہ یہی جنگ تھی۔

امریکہ نے افغانستان میں روس کے مقابلے کے لیے اسامہ بن لادن اور دیگر کئی افراد کی مدد کی اور اب وہ انہیں “دہشت گرد” قرار دے رہا ہے۔

“نو گیارہ یا اس سے ملتے جلتے حیلے بہانے امریکی تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ ایسا ملک ہے جس کی تاریخ ظلم وستم، جبر و استبداد، بربریت اور فسطائیت سے عبارت ہے۔ دنیا میں آج تک امریکہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک نے انسانوں پر ‘ایٹم بم’ نہیں پھینکا۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی کی اب بھی امریکی وحشت و دہشت کا خوف ناک نشان عبرت ہے۔” (36)

یوں اس جنگ میں اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی “سب سے پہلے پاکستان” کی پالیسی اور اتحادی افواج کی معاونت نے اس سر زمین کو بھی ایک طرح کا میدان جنگ بنا دیا۔



