Table of Contents
Socialism ek ghair Islami nazarya
| 7 | تمہید |
| 8 | سوشلزم کا فلسفہ |
| 9 | خدا سے بغاوت کی نئی بنیاد |
| 12 | مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید |
| 20 | پہلا اختلاف |
| 22 | دوسرا اختلاف |
| 25 | تیسرا اختلاف |
| 31 | سوشلزم کا حل |
| 35 | اہل مذاہب کی سوشلزم سے مرعوبیت |
| 40 | اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب |

| 48 | مسلم سو شلسٹوں کے دلائل |
| 49 | پہلا استدلال |
| 55 | دوسرا استدلال |
| 64 | تیسرا استدلال |
| 70 | حرف آخر |

اسلام ایک مذہبی نظریہ ہے اور سوشلزم ایک معاشی نظریہ

اسلامی فقہ کی اصطلاح میں جو اعمال فرض کفایہ ہیں ان کی فہرست بہت بڑی ہے۔ ان میں صرف معاشی قسم کے احکام ہی نہیں ہیں بلکہ دوسرے بہت سے احکام بھی ہیں: مثلا دفاع، جہاد فی سبیل اللہ، دعوت حق، تعلیم و تربیت، شریعت کا علم حاصل کرنا،نماز جنازہ میت کی تجہیز و تکفین ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ، وغیرہ ۔ اب اگر کسی معاشرہ میں یہ تمام فرائض کفایہ یا ان میں سے کوئی ادا نہ ہو رہا ہو تو عدم ادائیگی فرض کی صورت میں “سماجی ملکیت” بنا دینے کی سو شلسٹ منطق یہاں بھی لاگو ہونی چاہئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو معاشرہ ان فرائض سے غافل ہو جائے وہاں حکومت کا کام یہ نہیں ہوگا کہ لوگوں کو ان کے کرنے پر آمادہ کرے یا بذریعہ قوت انہیں مجبور کرے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرنے لگیں۔ اس کے برعکس حکومت یہ کرے گی کہ لوگوں سے ذاتی طور پر ادائیگی فرض کا حق چھین لے گی اور سماجی پیمانہ پر خود ان کی ادائیگی کا اہتمام شروع کر دے گی۔

آنحضورﷺ اور خلافت راشدہ کے دور سے ملکتیوں کو چھیننے کے جتنے واقعات پیش کیے جاتے ہیں وہ سب اصل مسلے سے غیر متعلق ہیں۔ مثلا مدینہ اور اطراف مدینہ کے مختلف قبائل کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرکے جلا وطن کر دینے کی مثال دی جاتی ہے۔ حالانکہ وہ “اجتماعی کاشت” کی عرض سے نہیں چھینی گئی تھی، بلکہ اس کی وجہ یہود کی مسلسل غداری اور بدعہدی تھی۔ وہ اسلام کی قلمرو میں رہ کر اسلام کے خلاف مستقل سازشیں کرتے تھے اور اسلامی حکومت سے کیے ہوئے معاہدوں کو در پردہ توڑتے رہتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں خود ان کے اپنے مذہبی قانون کے مطابق ، انہیں جلاوطن کر دیا گیا۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بھی مثال پیش کی جاتی ہے کہ آپ نے شاہی خاندان کی بہت سی جاگیروں کو ضبط کر لیا تھا۔ حالاں کہ یہ ضبطی اس لیے تھی کہ یہ جاگیریں ناجائز طور پر کچھ لوگوں کے قبضے میں تھیں۔آپ نے ان کو لے کر اصل حقدار کو واپس کر دیا۔

فتوحات کے زریعہ جو غیر منقولہ جائیدادیں اسلامی حکومت کو حاصل ہوتی تھیں ان کے سلسلے میں اب تک دو قسم کے طریقے رائج تھے۔ ایک یہ کہ انہیں سپاہیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔دوسرے یہ کہ انہیں اسلامی حکومت کی براہ راست ملکیت میں رکھا جائے اور اس کی آمدنی سے حکومت کی ضروریات پوری کی جائیں۔ 16ھ میں عراق فتح ہوا اور وہ سرسبز و شاداب علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہوا جو دجلہ و فرات کے درمیان واقع ہے تو سوال یہ پیدا ہوا کہ ان زمینوں کے بارے میں مذکورہ بالادونوں طریقوں میں سے کس طریقہ پر عمل کیا جائے۔ گو یا وہاں کسی کی ملکیت چھیننے کا سوال نہیں تھا بلکہ ملکیت کو متعین کرنے کا سوال تھا۔ حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تقریر میں اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی کی ملکیت نہیں چھین رہے ہیں بلکہ ملکیت جسے ملنی چاہئے اسے دے رہے ہیں۔



