Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 1

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat

صفحہ نمبرعنوانصفحہ نمبرعنوان
33متبعِ حدیث کون ہے؟9عرضِ ناشر
34احادیث میں تعارض نہیں ہے11پیش لفظ
34ایک شبہ کا ازالہ12ادلۂ کاملہ کی وجہِ تصنیف
آمین بالجہر کا مسئلہ12غیر مقلدین کے شائع کردہ اشتہارات
35مذاہبِ فقہاء19ایضاح الادلہ میں ایک آیت کی طباعت میں غلطی پر تنبیہ
36آمین کے بارے میں روایات21کتاب کا آغاز
39سلف کا عملرفع یدین کا مسئلہ
39سراً آمین کہنے کے دلائل24مذاہبِ فقہاء
40آہستہ آمین کہنا اصل ہے اور جہراً کہنا تعلیم کے لیے تھا25اختلاف کی وجہ
41ثوری اور شعبہؒ کی روایتوں میں تطبیق25رفع یدین کی روایت
42کتاب کا خلاصہ26ترکِ رفع کی روایت
43دفعہ دوم کا آغاز27روایات کس طرف زیادہ ہیں اور عمل کس پر زیادہ ہے؟
نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟28نقطۂ نظر کا اختلاف
45مذاہبِ فقہاء28پہلا نقطۂ نظر
46ہاتھ باندھنے کی روایات28دوسرا نقطۂ نظر
48محلِ وضع کی روایات29اختلاف کی دوسری وجہ
48سینہ پر ہاتھ باندھنے کی روایات31نسخ کا ایک اور واضح قرینہ
49زیر ناف ہاتھ باندھنے کی روایات32دوامِ رفع کی کوئی دلیل نہیں
49موقوف روایات33دفعہ اول کا آغاز
49کتاب کا خلاصہ33رفع یدین کے آخری عمل ہونے کی بھی کوئی دلیل نہیں ہے
51دفعہ سوم

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 2

صفحہ نمبرعنوانصفحہ نمبرعنوان
75فرقہ اہلِ حدیث کی حقیقتکیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟
76کیا اہلِ حدیث غیر مقلدین ہیں؟54مذاہب فقہا
ظہر کا آخر وقت اور عصر کا اول وقت55دلائل: جواز کی روایت
78(مثل اور مثلین کی بحث)58ممانعت کی روایات
78مذاہب فقہاء58جواز اور ممانعت میں تعارض نہیں ہے
79روایات59آیت کریمہ کے ناسخ ہونے کے دلائل
79پہلی روایت اور اس کا مفاد61تاویل باطل
81دوسری روایت اور اس کا مفاد62آیت میں تخصیص
82تیسری روایت اور اس کا مفاد62دفعہ چہارم
82چوتھی روایت اور اس کا مفادتقلید شخصی کا وجوب
83پانچویں روایت اور اس کا مفاد64تقلید کے معنی
84چھٹی روایت اور اس کا مفاد64تقلید شخصی کا مطلب
84امام اعظم کی مختلف روایات کے سلسلہ میں احناف کے مختلف نقطہائے نظر65تقلید کے معنی میں غلط فہمی
85پہلا نقطہ نظر65ایک اور غلط فہمی
85دوسرا نقطہ نظر67دفعہ خامس
86تیسرا نقطہ نظر68ڈھول کے اندر پول
87جمہور کے پاس بھی کوئی قطعی دلیل نہیں ہے68تقلید فطری چیز ہے
88دفعہ سادس69پہلی دلیل
تساوی ایمان کا مسئلہ70دوسری دلیل
91امام اعظم سے مروی دو قول70تیسری دلیل
91ایمان کی تعریف میں اختلاف71چوتھی دلیل
92لفظی نزاع کی تعریف71تقلید شخصی و غیر شخصی
92ایمان کے دو معنی71تقلید شخصی کی تاریخ
93ایمان کی پہلی تعریف74تقلید شخصی کا وجوب اجماع امت سے ہے
74کچھ اور لوگوں کا اختلاف

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 3

صفحہ نمبرعنوانصفحہ نمبرعنوان
118ایک شبہ اور اس کا جواب94ایمان کے بسیط کے دلائل
118دوسرا شبہ اور اس کا جواب94ایمان کی دوسری تعریف
121مرد عورتوں کے مالک ہو سکتے ہیں94ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے یا نہیں؟
122نکاح کی حقیقت بیع ہے95احناف بلاوجہ مطعون کئے گئے
123نکاح میں کس چیز کی بیع ہوتی ہے98اختلاف کا راز کھلتا ہے
123روح بدن پر قابض ہے99تزاید ایمان والی نصوص کا مطلب
123حیوانات سے انتقاع جائز ہونے کی وجہ102دفعہ سابع کا خلاصہ
124انسان کا بدن مال ہےقضائے قاضی کا ظہر او باطنا نافذ ہونا
124انسان اپنے بدن کا ملک ہے106ظاہر او باطنا کا مطلب
125عورت اپنے بدن کو بیچ نہیں سکتی106عقود و فسوخ کی تعریف
125پہلی دلیل106واسطہ اور اس کی قسمیں
125دوسری دلیل107مسلہ کا آغاز
126تیسری دلیل109جمہور کی نقلی دلیل
126عورت صرف اپنے منافع توالد بیچ سکتی ہے110جمہور کی عقلی دلیل
126عورت اپنا نفع توالد کیوں بیچ سکتی ہے؟111امام اعظم کے نقلی دلائل
127نفع توالد کی بیع میں کوئی توہیں نہیں ہے113امام اعظم کی عقلی دلیل
127نفع توالد کی بیع میں کوئی فساد لازم نہیں آتا113دلیل عقلی کی تفصیل
130نکاح کیوں ضروری ہے؟114جمہور کی نقلی دلیل کے جوابات
131عورت کی دو حیثیتیں115جمہور کی عقلی دلیل کا جواب
131عورت کا بدن اسی کا مملوک ہے115کتاب کی شرح کا آغاز
131ایک شبہ اور اس کا جواب116دفعہ ثآمن کا آغاز
131مرد عورتوں کا مالک ہو سکتا ہے مگر اس کا بر عکس نہیں ہوسکتا117مقدمات خسمہ
133عورتیں اپنا جسم ہبہ نہیں کر سکتیں117ملکیت کی علت قبضہ تامہ ہے
117بیع و شراء وغیرہ اسباب ملک ہیں
118قبضہ کے علت ہونے کی دلیل

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 4

صفحہ نمبرعنوانصفحہ نمبرعنوان
153قاضی رعیت کا ولی ہے134حضورﷺ کیلئے ہبہ جائز تھا
154ظالم قاضی نہ خدا کا نائب ہے نہ رعیت کا ولی134حضور ﷺ تمام کائنات کے مالک ہیں
154لاعلمی معقول عذر ہے135ایمان نہ ہونے کی صورت میں ملکیت کیلئے صرف قبضہ کافی ہے
155قضائے قاضی کے ظاہرا و باطنا نافذ ہونے کی وجہ136کفار چوپایوں کی طرح کیوں ہیں؟
156تحصیل ملک کیلئے غلط طریقہ اختیار کرنا گناہ کبیرہ ہے138نکاح کے بیع ہونے پر ایک اعتراض
157طریقہ کی خرابی ملک تک نہیں پہنچتی139جواب
157قطعتہ من النار نص صریح نہیں ہے141شوہر اگر بیوی کو فروخت کرے تو بیع باطل ہے
158ہمیں چوگان ہمیں میدان!141(پہلی دلیل)
محارم سے نکاح حد زنا میں شبہ پیدا کرتا ہے143قبضہ کے علت ملک ہونے پر پہلا اعتراض
161محارم کے معنی143جواب
161زنا کے معنی144دوسرا اعتراض
161حد کے معنی144جواب
162حد اور تعزیر میں فرق145شوہر اگر بیوی کو فروخت کرے تو بیع باطل ہے
162حد زنا145(دوسری دلیل)
162مسلہ کا آغاز146حرمت معتہ کی وجہ
163جمہور کی دلیل147قاضی کے فیصلہ سے بھی منکوحہ عورت کا کوئی مالک نہیں ہو سکتا
163امام ابو حنیفہ کے نقلی دلائل148انتقال ملک کے اسباب منکوحہ کے حق میں بیکار کیوں نہیں؟
163پہلی روایت150غیر منکوحہ عورت اور دیگر اموال کے بارے میں امام صاحب کا مذہب
163دوسری روایت151قاضی نائب خدا ہے
164تیسری روایت152قاضی و حاکم کی خلافت خداوندی پر ایک شبہ اور اس کا جواب
164چوتھی روایت
165شبہ کی تعریف اور اس کی قسمیں
165شبہ فی المحل اور اس کا حکم

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 5

صفحہ نمبرعنوانصفحہ نمبرعنوان
186دفعہ عاشر کا آغاز166شبہ فی الفعل اور اس کا حکم
187قلتین والی حدیث سے بھی تحدید پر استدلال درست نہیں166شبہ فی العقد اور اس کا حکم
188حدیث لایبولن واجب العمل167مفتی بہ قول
189احناف کا اصل مذہب اور اس کی دلیل167صاحب ہدایہ کی جامع اور محققانہ بحث
190قلیل و کثیر پانی کے احکام مختلف ہیں169جمہور کی دلیل پر نظر
190قلیل و کثیر کا فیصلہ رائے مبتلی بہ پر چھوڑ دیا گیا ہے170امام صاحب کی عقلی دلیل
191دہ دردہ کوئی اصل مذہب نہیں171امام صاحب کی دوسری دلیل
191ادلہ کاملہ تمام شدہ171افعال حسیہ اور افعال شرعیہ کی تعریف
194جواب ترکی بہ ترکی172نہی اور نفی میں فرق
194غیر مقلدین کا سب سے بڑا المیہ ظآہر پرستی اور خودرائی ہے172افعال شرعیہ کی نہی میں شرعی
194غیر مقلدین سے گیارہ سوالات173قدرت ضروری ہے
196التماس ویادداشت173دفعہ تاسع کا آغاز
202کیا غیر مقلد کو لا مذہب کہنا بے جا ہے؟173نکاح محارم بھی حقیقی نکاح ہے
203ضمیمہ175نکاح کرکے محارم سے صحبت کرنا بھی حرمت میں زنا سے بڑھا ہوا ہے
205چونی بھی کہے، مجھے گھی سے کھاو177تہمت کا انجام برا ہوتا ہے
205اظہارپانی کی پاکی نا پاکی کا مسلہ
206سوالات مشتہرہ کا ایک اور اجمالی جواب179مذاہب فقہاء
خاتمتہ الطبع184مستدلات فقہاء
185الماء طہور سے عدم تحدید پر استدلال درست نہیں
181روایات

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 6

نماز کے شروع میں تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین (دونوں ہاتھ اٹھانا) بالاتفاق سنت ہے
اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین سنت ہے یا نہیں؟
اس میں امت کا اختلاف ہے۔ ائمہ اربعہ میں سے دو امام ان دو جگہوں میں بھی رفع یدین کو سنت کہتے ہیں،
اور دو امام رفع یدین نہ کرنے کو سنت کہتے ہیں، مذاہب کی تفصیل درج زیل ہے۔

حنفیہ کے نزدیک: رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین مکروہ یعنی خلاف اولیٰ ہے، شامی ہے۔

مالکیہ کے نزدیک: بھی رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع یدین مکروہ ہے، علامہ دردیر کی شرح صغیر میں ہے۔

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 7

احناف کے نزدیک نماز میں ہاتھ باندھنا ایک سنت ہے
اور مردوں کے لئے ناگ کے نیچے باندھنا دوسری سنت ہے، در مختار میں ہے۔

مالکیہ کے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھنا نفل نماز میں جائز ہے
اور فرض نماز میں مکروہ ہے، ان کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ دونوں ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں،
علامہ دردیر کی شرح صغیر میں ہے۔

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 8

شوافع کے نزدیک ہاتھ باندھنا سنت ہے
اور سینہ کے نیچے ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا مستحب ہے، شرح مہذب میں ہے۔

امام احمد بن حنبل سے تین رواتیں مروی ہیں
ناف کے نیچے باندھے، ناف سے اوپر باندھے، اور دونوں جگہ باندھنے کی گنجائش ہے،
البتہ متون میں جو قول لیا گیا ہے وہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا ہے۔

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 9

تقلید شخصی کی تاریخ

محدثین فقہاء سے مراد وہ حضرات ہیں جن کا اصل کام حدیثیں روایت کرنا تھا
مگر وہ مجتہد بھی تھے، اس لئے روایت حدیث کے ساتھ مسائل بھی بیان کرتےتھے اور لوگ بطور استفادہ یا بطور ضرورت ان سے مسائل پوچھتے تھے اور وہ جوابات دیتے تھے،
موطا امام مالک اس کی بہترین مثال ہے۔

محدثین فقہاء کے سر خیل حضرت امام مالک ہیں، اور فقہاء محدثین کے امام اعظم حضرت امام ابو حنیفہ ہیں
پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کے تلامذہ کا دور آیا، اور آہستہ آہستہ مسلمان دو حصوں میں بٹتے چلے گئے اور الگ الگ مکتب فکر کی پیروی کرنے لگے۔

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 10

ادھر ابنا زمانہ میں ہوا و ہوس کا غلبہ عام ہونے لگا
وہ رخصتوں کو تلاش کرنے لگے، اور جس مجتہد کا قول اپنی خواہش کے موافق ملا اس کو اختیار کر لیا
یہاں تک کہ یہ اندیشہ پیدا ہونے لگا کہ کہیں دین متین خواہشات کا مجموعہ نہ بن جائے،
اور مسلمان دین کا اتباع کرنے کی بجائے دین کو اپنی خواہشات کے تابع نہ بنالیں۔

اس لیے چوتھی صدی کے اکابر نے اس صورت حال پر ٹھنڈے دل سے غور کیا
ان کی سمجھ میں یہی ایک صورت آئی کہ اب تقلید غیر شخصی سے لوگوں کو منع کیا جائے اور سمجھایا جائے کہ وہ متعین مجتہد کی تقلید کریں،
تاکہ لوگ تقلید غیر شخصی کی آڑ میں نفس کے بندے نہ بن جائیں اور بے صلاحیت مجتہدین کی پیداوار بھی بند ہو۔

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 11

قران اولیٰ میں اہل حدیث محدثین کو کہا جاتا تھا
خواہ وہ مجتہد ہوں یا یہ غیر مجتہد، مگر محدثین فقہاء کے مکتب فکر کی تقلید کرتے ہوں۔
سلف کے اقوال میں اور حدیث شریف کی کتابوں میں جہاں بھی اصحاب الحدیث، یا اہل الحدیث کا لفظ آیا ہے،
اس سے یہی حضرات مراد ہیں، فرقہ اہل حدیث مراد نہیں۔

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 12

حدود چار ہیں، حدِ زنا، حدِ سرقہ (چوری کی سزا)، حدِ قذف (زنا کی تہمت لگانے کی سزا) اور شراب پینے کی سزا۔ ان چار سزاؤں کے علاوہ اسلام میں دیگر جرائم کی جو بھی چھوٹی بڑی سزائیں ہیں وہ تعزیر اور سیاست کہلاتی ہیں، اور ان کا اجرا قاضی کی صواب دید پر موقوف ہوتا ہے۔ ان کا جاری کرنا لازماً ضروری نہیں ہوتا۔اسی طرح قصاص بھی حد نہیں ہے، چنانچہ مقتول کے ورثاء قصاص معاف بھی کر سکتے ہیں۔ اور حدود چونکہ اللہ کا حق ہیں، اس لیے ان کو معاف کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں سفارش کرنا بھی سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔

:حد اور تعزیر میں فرق

دیگر جرائم جو یا تو چھوٹے جرائم ہیں، یا قلیل الوقوع ہیں، جیسے غلام یا جانوروں کے ساتھ بدفعلی وغیرہ، ایسے جرائم کی سزائیں متعین طور پر مقرر نہیں کی گئی ہیں، بلکہ قاضی کی صواب دید پر چھوڑ دی گئی ہیں۔قاضی جرم کی نوعیت دیکھے گا، اور جو سخت سے سخت یا ہلکی سے ہلکی سزا مناسب سمجھے گا، جاری کرے گا۔

الغرض جس جرم کی سزا شریعت میں متعین ہے وہ حد ہے، اور جس جرم کی سزا قاضی کی صواب دید پر موقوف ہے وہ تعزیر ہے۔

:حدِ زنا
(1) غیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے۔
(2) محصن یعنی شادی شدہ مسلمان کے لیے رجم، یعنی سنگسار کرنا۔

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 13

ائمہ ثلثہ اور صاحبین کے نزدیک اگر نکاح کرنے والے کو یہ بات معلوم تھی کہ وہ عورت اس کی محرم ہے، اور محرم سے نکاح حرام ہے تو اس پر حدِ زنا واجب ہے، اور اگر وہ ناواقف تھا تو حد واجب نہیں ہے۔

اور امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت سفیان ثوری اور امام زفر کے نزدیک بہر صورت اس پر حد واجب نہیں ہے، البتہ اگر اس نے جانتے بوجھتے یہ حرکت کی ہے تو اس کو سخت عبرتناک سزا دی جائے گی۔

Ghair Muqallideen Hazrat se La Jawab Sawalat 14

Aqiqah

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top