Table of Contents
Assassin History
حشیشیین
حسن الصباح فارسی اثنا عشری تھا جس نے اسماعیلیت اختیار کی اور اس کے نصب العین کا پر جوش مبلغ بن گیا۔ نوجوانی میں اس نے مستقبل کے خیمہ ساز، ماہر فلکیات اور شاعر عمر خیام، اور مستقبل کے فارسی وزیر اعظم نظام الملک کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ 1090ء میں اس نے الموت (شاہین کا گھونسلا) نامی قلعے کا کنٹرول سنبھالا۔ شمالی فارس کے پہاڑوں پر ایک سنی قلعہ اور اسے اپنی کارروائیوں کے لیے اڈہ بنایا۔ عیسائی صلیبیوں نے حسن کے پیروکاروں کو حشیشیین کا نام دیا۔

حسن اپنے نو مبایعین کو حشیش یا بھنگ کا نشہ کروایا کرتا تھا۔ لہذا صلیبیوں نے انہیں حشیشیین یعنی حشیش استعمال کرنے والے کہا۔
وہ 1124ء میں 90 برس کی عمر میں فوت ہوا۔


مثلا 1129ء میں ٹمپلرز سمیت صلیبیوں اور حشیشیین نے دمشق مسلمانوں سے چھڑا کر عیسائیوں کے قبضے میں لانے کا منصوبہ بنایا، اور بدلے میں انہوں نے حشیشیین کو الصور کا قلعہ دنیا تھا۔ منصوبہ اس وقت بری طرح ناکام ثابت ہوا جب دمشق کے عسکری کمانڈر کو خبر ہوگئی اور ہزاروں مارے گئے۔ لیکن اس سے مفروضانی دشمنوں کے درمیان باہمی مفادات کے تحت گٹھ جوڑ پر آمادگی واضح ہوگئی۔


