Dawate Khilafat aur Manhaj Rasool
3۔ ہر سوال کا جواب دینا خطرناک ہے
کوئی بھی تحریک جب اپنی دعوت کی ابتدا کرتی ہے تو اس کے داعیوں میں جوش و ولولہ ہونا ایک فطری بات ہے۔ چنانچہ داعی اور کارکن حق کو بیان کرنے میں کسی کی ملامت کی پروا نہیں کرتے، لیکن تحریک کے ذمہ داران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس خوبی کی قدر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے داعیوں اور کارکنوں کو یہ بات سمجھائیں کہ حق بات کو ہر جگہ اور ہر وقت بیان نہیں کیا جاتا۔
بلکہ بعض اوقات خاموش رہنا ہی تحریک کے مفاد میں ہوتا ہے۔ آپ کی دعوت کے مخالفین آپ کو ایسے سوالات میں الجھانا چاہیں گے جن میں زبان کھولنا یا دو ٹوک جواب دینا دعوت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ کی تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ قرآن و سنت نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ ایسے مواقع پر جواب دینے سے سلیقے سے پہلو تہی کی جائے۔
ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ نے آپ ﷺ سے پوچھا: تم بہتر ہو یا عبدالمطلب؟ اگر تم سمجھتے ہو کہ وہ تم سے بہتر تھے تو وہ بھی انہی بتوں کی عبادت کرتے تھے جن کی تم برائیاں کرتے ہو، اور اگر تمہارا خیال ہے کہ تم ان سے بہتر ہو تو تم بولو، ہم سنتے ہیں۔
حدیث میں آتا ہے کہ: فسکت رسول الله ﷺ یعنی رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔
یہ ایک خطرناک سوال تھا جو عرب کے ایک جہاندیدہ اور تجربہ کار بوڑھے نے سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ ایسا وقت کسی بھی داعی کے لیے، خصوصاً دعوت کے ابتدائی مراحل میں، بہت خطرناک ہوتا ہے۔ ذرا سی جلد بازی، جذباتیت اور شریعت کے مزاج سے ناواقفیت اس کی دعوت کو ابتدا ہی میں سبوتاژ کر سکتی ہے۔
آپ سوچیں اگر رسول اللہ ﷺ اس سوال کا واضح جواب دے دیتے اور فرما دیتے کہ میں عبدالمطلب سے بہتر ہوں، تو اس ابتدائی مرحلے میں آپ کے اپنے خاندان کے وہ لوگ ہی آپ کے مخالف ہو جاتے جو اس وقت آپ کی پشت پر کھڑے ہوئے تھے اور جن کی وجہ سے کفار آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کر رہے تھے۔
عبدالمطلب قریش کی ایک نامور شخصیت تھے، سو اگر ایک نوجوان ایسی شخصیت ہی کو غلط کہہ دیتا جس کی بزرگی پر سب متفق تھے، تو ابتدا میں آپ ﷺ کو وہ حمایت بھی نہ ملتی جو اس وقت اللہ نے آپ کو خاندان میں عطا فرمائی تھی۔ لیکن آپ ﷺ اللہ کے رسول تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے۔ پھر عقبہ نے آگے بات شروع کی۔

نجاشی کے سوال کے جواب میں حضرت جعفرؓ نے ایسا جواب دیا جو قرآن سے تھا، لیکن انجیل میں بھی وہی مذکور تھا۔ آپؓ نے اس نازک مرحلے پر نہ تو حق کو چھپایا اور نہ ہی ایسا اشتعال انگیز جواب دیا جسے سن کر نجاشی اور اہلِ حبشہ مسلمانوں کے مخالف ہو جاتے اور انہیں کفارِ مکہ کے حوالے کر دیتے۔
نیز اس واقعے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مواقع پر کسی ایسے بولنے والے کا انتخاب کرنا چاہیے جو اچھے انداز میں اجتماعی موقف پیش کرے اور مجلس و موقع کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے گفتگو کرے۔

نماز لمبی پڑھاتے ہیں، جو ہم پر بہت مشکل ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: “افتان أنت يا معاذ؟” یعنی “اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے میں ڈالنا چاہتے ہو؟”
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ جہاں نماز پڑھاتے تھے، وہاں کی مخصوص صورت حال اس بات کا تقاضا کر رہی تھی کہ نماز کو مختصر پڑھایا جائے، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے حالات کا خیال رکھتے ہوئے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز پڑھانے کا حکم فرمایا، حالانکہ عام حالات میں نماز کو لمبا پڑھانا اچھی بات ہے۔
مخالفین کی بات کو بھی بغور سننا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت مدینہ سے قبل جب عتبہ قریش کا نمائندہ بن کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کو پوری طرح سنا، یہاں تک کہ جب وہ اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہو گیا تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر اپنی گفتگو فرمائی۔
مخصوص اہم افراد پر محنت کرنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ معاشرے کے ایسے مؤثر افراد جن کا تعاون آپ کی تحریک کو زیادہ مضبوط کر سکتا ہے، ان پر خصوصی محنت کرنی چاہیے، نیز ان کے لیے دعا اور انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی:
“اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابو جہل) میں سے کوئی ایک ہمیں عطا فرما دے”
اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کو عطا کیے گئے، جس سے اسلام مضبوط ہوا اور مکہ میں کھلے عام دین کی دعوت دی جانے لگی۔



