Table of Contents
Yahudi Agenda Book
ترتیب
باب 1 دنیا پر قبضے کا یہودی ایجنڈا
مسلم ممالک سے تعلقات کی اسرائیلی کوششیں
ہولوکاسٹ، یہودی پرو پیگنڈا
پروٹوکول 1
پروٹوکول 2
پروٹوکول 3
پروٹوکول 4
پروٹوکول 5
پروٹوکول 6
پروٹوکول 7
پروٹوکول 8
پروٹوکول 9
پروٹوکول 10
پروٹوکول 11
پروٹوکول 12
پروٹوکول 13
پروٹوکول 14
پروٹوکول 15

پروٹوکول 16
پروٹوکول 17
پروٹوکول 18
پروٹوکول 19
پروٹوکول 20
پروٹوکول 21
پروٹوکول 22
پروٹوکول 23
پروٹوکول 24
باب 3 امریکی فلم انڈسٹری یہودی گرفت میں
باب 4 امریکہ میں اسرائیلی جاسوسی کا نیٹ ورک
باب 5 اسرائیل کے ایٹمی ہتھیار
باب 6 اسرائیل کے جاسوسی سیارے
باب 7 عراقی ایٹمی سائنسدانوں کا قتل عام
باب 8 تیل پر قبضے کے صیہونی منصوبے
باب 9 اہم دارالحکومتوں پر یہودی قبضہ
باب 10 صیہونیت اور عالمی مالیاتی نظام

یہودی باطنی عقیدہ جس کے حاملین اس وقت نہ صرف امریکہ اور یورپ پر مسلط ہیں بلکہ اسرائیل کی تمام بھاگ دوڑ بھی اس انتہا پسند باطنی عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ہاتھ میں ہے۔

ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ میں ہونے والا یہودیوں کا مبینہ قتل عام ایک گھڑی ہوئی داستان ہے، اور اگر یہ ہولوکاسٹ ہوا بھی ہے تو اس کے ذمہ دار جرمنی اور آسٹریا جیسے یورپی ممالک ہیں۔ وہی اس کا ازالہ کرتے ہوئے اپنے ہاں یہودیوں کو بسنے کی اجازت دیں۔ اس غلطی کا ازالہ مشرقِ وسطیٰ میں فلسطینیوں کے حقوق غصب کرکے کیوں کیا جا رہا ہے؟ ایرانی صدر کے اس نعرۂ مستانہ نے مغربی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکہ، برطانیہ اور ان کے طفیلی یورپی ممالک کی جانب سے ایرانی صدر کے بیان کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، مگر ایرانی حکومت نے اپنا بیان واپس لینے سے انکار کر دیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہودیوں کے خلاف ہولوکاسٹ ایک من گھڑت کہانی، چند واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، عالمی صہیونیت کے منصوبے کا حصہ تھا۔ اس لیے دنیا کو مخصوص عینک کے ذریعے من پسند مناظر دکھائے گئے ہیں۔
ہولوکاسٹ کا لفظ یونانی زبان سے تعلق رکھتا ہے جس کا معنی ہے بڑے پیمانے پر قتلِ عام کرنا۔ دنیا کا سب سے پہلا ہولوکاسٹ یہودیوں کے ہاتھوں یمن کے عیسائیوں کا ہوا۔

کسی بھی قسم کا قرضہ حکومت کی کمزوری کا ثبوت ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ریاست کے حقوق کو صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا۔ قرضے ایک ننگی تلوار کی طرح حکمرانوں کے سروں پر لٹکتے رہتے ہیں جو اپنی رعایا سے عارضی ٹیکس لگا کر رقم حاصل کرنے کی بجائے ہمارے بینکاروں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے آجاتے ہیں۔ غیر ملی قرضے ایسی جونکیں ہیں جن کو ریاست کے جسم سے الگ کرنا ممکن نہیں، ماسوائے اس کے کہ یہ خود ہی الگ ہو جائیں یا متعلقہ ریاست انہیں اتار پھینکیں۔
قرضہ، اور بالخصوص غیر ملکی قرضہ، دراصل کسی حکومت کی طرف سے جاری شدہ ایک ہنڈی (Bill of Exchange) ہوتی ہے، جس میں قرضے کی رقم مع سود ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی جاتی ہے۔ اگر شرحِ سود 5 فیصد ہو تو مقروض حکومت 20 سال کے عرصہ میں اصل زر کے برابر صرف سود ہی ادا کر دیتی ہے۔ 40 سال میں یہ رقم دوگنا اور 60 سال میں تین گنا ہو جاتی ہے، اس کے باوجود بھی اصل قرضہ سر پر ہی رہتا ہے۔

اس خطرناک ایٹمی ری ایکٹر میں دس برس تک کام کرنے والے منحرف جوہری انجینئر موردخائی فانونو کو 1986ء میں روم سے موساد کے ایجنٹوں نے اغوا کرکے واپس اسرائیل پہنچا دیا تھا، جہاں اسرائیل کے جوہری رازوں کے بارے میں مغربی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو کی پاداش میں اسے 18 برس قید کی سزا سنائی گئی۔

موردخائی فانونو اسرائیل کے ایٹمی پروگرام سے دس برس تک منسلک رہا۔ اس کے بعد بعض پالیسیوں سے اختلاف کرکے فانونو خفیہ طور پر اسرائیل سے آسٹریلیا فرار ہوگیا، جہاں اس نے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے صحافی سے روابط پیدا کرکے اسرائیل کے ایٹمی راز مہیا کرنے کی پیش کش کی۔ برطانوی صحافی نے اسے خاموشی کے ساتھ برطانیہ آنے کی دعوت دی۔ فانونو برطانیہ میں اپنی قیام گاہ سے خفیہ طور پر کار کی ڈگی میں چھپ کر سنڈے ٹائمز کے دفتر پہنچا، کیونکہ دنیا بھر میں اسرائیلی موساد کے نیٹ ورک کو اطلاع مل چکی تھی کہ فانونو اسرائیل سے فرار ہو چکا ہے۔ سنڈے ٹائمز میں فانونو کے انکشافات نے مغربی دنیا میں تہلکہ مچا دیا، جب اسرائیل کے جوہری راز طشت ازبام ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ کو سخت خفت کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانیہ آنے کے بعد موردخائی نے یہودیت ترک کرکے عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا، جس سے صہیونی مزید برانگیختہ ہوگئے۔ چنانچہ موساد نے اپنا پرانا اور مؤثر ہتھیار، عورت، استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ایک اطالوی حسینہ کو موردخائی کے پیچھے لگا دیا گیا جو دراصل روم میں موساد اسٹیشن کی رکن تھی۔ شادی کے بعد موردخائی ہنی مون منانے کے لیے روم پہنچا، جہاں اسے اغوا کرکے ایک بکس میں بند کر کے تل ابیب پہنچا دیا گیا۔

کیونکہ اس سے پہلے امریکہ کے جاسوس منصوعی سیارے اسرائیل کو عرب فوجوں کی نقل و حرکت کے بارے میں آگاہ کرتے تھے۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل نے امریکہ کا ایک بحری جہاز ‘لبرٹی’ تباہ کر دیا تھا لبرٹی امریکہ کی مواصلاتی جاسوس ایجنسی این ایس اے کے تحت کام کرتا تھا اور عرب اسرائیل جنگ کے دوران بحیرہ روم سے جنگ کے دوران اسرائیلی امریکہ کو بھی صحیح معلومات نہیں مہیا کر رہے تھے۔ اس لئے لبرٹی کو خاص مشن کے تحت بحیرہ روم میں تعینات کیا گیا تھا۔ اسرائیلیوں نے امریکہ کے اس قدم کا انتقام اس طرح لیا کہ “غلط فہمی” کا بہانہ بنا کر اسرائیلی طیاروں نے لبرٹی کو تباہ کر دیا اس کے ساتھ ہی ڈیڑھ سو کے قریب امریکی میرین بھی ہلاک کر دیئے گئے۔ عالمی صیہوینت کے حوالے سے گھرا ہوا امریکہ اس واقعے پر خاموش ہوگیا، عالمی صہیوننی تنظیم “بلڈ برج” کے اہم عہدیدار اور اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اس معاملے کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس واقعے کو خاموشی سے دبا تو لیا گیا تھا۔ مگر کچھ عرصہ کے لئے امریکہ اور اسرائیل کے خلائی پروگرام میں باہمی تعاون کی فضا سرد پڑ گئی تھی جسے جلدی ہی دوبارہ گرم کر لیا گیا۔

اس سیارے کے زریعے اسرائیل حماس کے لیڈروں کی ٹیلی فونک گفتگو بھی ریکارڈ کرتا رہا اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں میں موجود اسرائیل کے ایجنٹ خاص طور پر فلسطینی اتھارٹی اور یاسر عرفات کے گرد موجود اسرائیلی ایجنٹوں کا رابطہ مخصوص مواصلاتی زرائع کے زریعے اسرائیل کے ساتھ رہتا تھا۔ اس سلسلے میں بہت سے حماس کے لیڈروں کو اسرائیل نے محض ان ایجنٹوں کی نشاند ہی شہید کیا۔

اس وقت عربوں کا مجموعی خلائی نظام صرف نغمہ و طرب کی ترویج اور وڈیو کلب اور تفریحی چنیلوں تک محدود ہے۔

عرب صحافتی زرائع کے مطابق ایک طرف تو عربوں نے اپنی بے پناہ دولت غیر ضروری منصوبوں میں صرف کی ہے، تو دوسری جانب ترقی کے شوق میں انہوں نے مغرب سے جو مصنوعی سیارے خریدے ہیں وہ اب ان ہی کی جاسوسی کا سبب بھی بنے ہوئے ہیں۔اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر عالمی صہیونیت خود عربوں کا سرمایہ ان ہی کی جاسوسی کے لئے استمعال کر رہی ہے۔مصر نے عرب سائٹ نامی منصوعی سیارہ فرانس سے خریدا تھا۔اب بعض عرب زرائع کا کہنا ہے نہ صرف اسرائیل بلکہ خود فرانس مصر کو یہ سیارہ فروخت کرنے کے بعد خود ان کی جاسوسی کر رہا ہے جبکہ مصری حکومت اس سیارے کے زریعے عرب عوام کو ناچ گانے کے پروگرام دیکھا رہی ہے۔

عرب صحافتی زرائع کے الزامات کے مطابق موساد اور امریکی سی آئی اے بھی عراق سائنسدانوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی نے عراقی سائنسدان کی تلاش کیلئے باقاعدہ یونٹ تریتب دیئے تاکہ عراق پر امریکی حملے کے فورا بعد داخلی طور پر عراق میں عراقی فوج کی قوت کے اصل سرچشمے کو کس طرح بند کیا جائے، یوں تقریبا 15000 عراقی سائنسدان، یونیورسٹیوں کے اعلٰی اساتذہ، ماہرین تعلیم، علماء اور مفکرین کو منظم انداز میں قتل کیا گیا۔ ان میں سے کئی ایٹمی سائنسدان ایسے بھی ہیں جنہیں عراق سے باہر قتل کیا گیا۔ ان میں سے کچھ اغواء ہوئے اور بہت سے عراق سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اس سلسلے میں ازبک نژاد افغان کمانڈر عبدالرشیددوستم اور امریکیوں کے درمیان ایک معاہدے طے پایا تھا جس کے تحت طالبان کے خلاف امریکی جنگ میں شمالی اتحاد کو امریکہ فضائی امداد ازبکستان کے اڈوں سے دی جاتی تھی۔ ازبکستان کے صدر اسلام کریموف نے اس معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اسے امریکہ اور ازبکستان کے درمیان دفاعی تعاون سے تعبیر کیا تھا۔ ازبک صدر کا بیان تھا کہ دشت گردوں کے خلاف جنگ میں ہم اکیلے نہیں رہ سکتے، مگر اپنے عوام کو مطمئن کرنے کیلئے ازبک حکومت نے امریکہ کو افغانستان کے خلاف اپنے اڈے استعمال نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر یہ اڈے استعمال ہوئے اور آج بھی صورتحال پہلے کی طرح ہے۔



