Table of Contents
Air Commodore MM Alam
فہرست
| صفحہ نمبر | عنوان | نمبر شمار |
|---|---|---|
| 7 | وہ عالم میں انتخاب تھا! مستنصر حسین تارڑ | 1 |
| 14 | من کی بات | 2 |
| 19 | ایم ایم عالم سے ایم ایم عالم تک | 3 |
| 24 | رائل پاکستان ائر فورس کا شاہین | 4 |
| 30 | جنگ ستمبر کا آغاز | 5 |
| 49 | عالم کا عالم | 6 |
| 62 | قرآن کے وارث | 7 |
| 65 | ایم ایم عالم کے ہیروز | 8 |
| 67 | ٹرانسپورٹ ونگ میس چکلالہ سے فالکن ٹو تک | 9 |
| 70 | ضرب کلیمی اور ایم ایم عالم | 10 |
| 74 | گیسٹ سپیکر | 11 |
| 76 | ایم ایم عالم سرگودھا | 12 |
| 80 | گردش ایام | 13 |
| 84 | بیٹ مین عامر کے “صاحب” | 14 |
| 88 | افغانستان کا سفر | 15 |
| 92 | جو روشنی بانٹنے آیا تھا، وہ مہر منور ڈوب گیا | 16 |
| 99 | پی اے ایف بیس میانوالی سے ایم ایم عالم تک | 17 |

| صفحہ نمبر | عنوان | نمبر شمار |
|---|---|---|
| 100 | یادوں کے دریچے، فرزانہ کے بھائی جان | 18 |
| 109 | کامیابی کے راز | 19 |
| 113 | ہیروز کے ہیرو | 20 |
| 127 | درسی کتب کے لیے ایم ایم عالم پر لیکھا مختصر مضمون | 21 |
| 133 | ہدیہ ء تشکر | 22 |

ایڈمرل صاحب شریک ہوئے اور جب نیرہ نور نے “وطن کی مٹی گواہ رہنا” گایا تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور داڑھی بھیگنے لگی، اور آخر میں جب ترنم ناز نے “اے راہِ حق کے شہیدو” کا الاپ شروع کیا تو ان کی ہچکی بندھ گئی۔

بالعموم یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایم ایم عالم بنگالی تھے جس کی وجہ سے ان کی ذات کو کبھی کھل کر سامنے نہ آنے دیا گیا۔ حالانکہ ایسی سوچ کے حامل افراد کے لیے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ ایم ایم عالم بنگالی نہیں تھے — جی ہاں، وہ بنگالی نہیں تھے بلکہ بہاری تھے۔ بھارت کے صوبہ بہار میں پیدا ہوئے، کلکتہ میں رہے، پلے بڑھے اور 1947ء کو ہجرت کرنے کے سبب ڈھاکہ میں مقیم ہوئے۔

کلکتہ کے ایک ملازمت پیشہ مسلمان گھرانے میں 6 جولائی 1935ء کو ایم ایم عالم (محمد مسعود عالم) کے ہاں ایک بچے نے جنم لیا۔ وہ بچہ کے مقدر میں تاریخ بنانے کے فیصلے ہو چکے تھے۔ یہ بچہ بھی ایم ایم عالم ہی تھا مگر یہ محمد محمود عالم تھا۔
ایم ایم عالم سے ریڈیو پاکستان کی پروڈیوسر رابعہ اکرم صاحبہ نے سوال کیا کہ ان کا نام آپ کے والد محترم نے کس سے متاثر ہو کر رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے والد محترم محمود غزنوی، ٹیپو سلطان اور سلطان شہاب الدین غوری سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے میرا نام محمود غزنوی کے نام سے متاثر ہو کر رکھا تھا۔

جنگِ ستمبر 1965 کے بعد امریکہ کی طرف سے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ یہ امبارگو کچھ عرصے بعد ہٹا دیا گیا مگر 1971 کے بعد دوبارہ مسلط کر دیا گیا۔ اس امبارگو کا سب سے زیادہ نقصان پاک فضائیہ کو برداشت کرنا پڑا۔ پاک فضائیہ کی انوینٹری کے تمام جہاز، جن میں ایف۔86 سیبرز، ایف۔104، اور ٹریننگ جہاز شامل تھے، امریکہ کے بنائے ہوئے اور وہیں سے خریدے گئے تھے۔ ان جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے فالتو پرزے میسر نہیں تھے۔اس صورتحال میں پاک فضائیہ کو ایک نئے جہاز کی اشد ضرورت تھی — ایسا جہاز جو 1965 کی جنگ کے اثرات اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ ائرمارشل نور خان نے فوراً چین کے ساتھ معاہدہ کیا اور چین نے 30 ستمبر 1965 کو پاک فضائیہ کو 72 ایف۔6 طیارے مہیا کر دیے۔

ان کا نام بھی محمود غزنوی سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا، اور وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے۔

جب افغانستان میں امریکی جنگ شروع ہوئی تو ایم ایم عالم نے اس پر تنقید شروع کر دی۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

شہادت کا جو تصور ہمارے پاس ہے، وہ ہندوستان کے پاس نہیں ہے۔

ایک آزاد قوم کے اوصاف کو زندہ کیجیے۔ آزاد قوم کا سب سے بڑا وصف اس کی غیرت ہے۔ جب غیرت مر جائے تو قوم مر جاتی ہے۔ غیرت مند قوم کبھی محکوم نہیں ہوتی۔ قائداعظم دین دار تھے یا نہیں، مگر غیرت مند ضرور تھے۔

سرگودھا 1930ء میں وجود میں آیا اور مالٹوں کی پیداوار کی وجہ سے جلد ہی مقبول ہو گیا۔

سرگودھا کی فضاؤں میں شاہین صفت ہوا باز ایم ایم عالم (محمد محمود عالم) نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے اور دنیا میں عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ مجموعی طور پر ایم ایم عالم نے بھارت کے نو طیارے مار کر فضائی جنگ میں عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ انہیں فضائیہ اور عوامی حلقوں میں “لٹل ڈریگن” (Little Dragon) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اسی روز خبر نامہ میں سرگودھا کو شاہینوں کا شہر کہہ کر پکارا گیا۔ 17 روزہ جنگ میں بھارت نے بار بار سرگودھا کا رخ کیا اور ہر بار اسے ہزیمت اٹھانی پڑی۔ ہمارے شاہین ان پر جرات سے جھپٹتے رہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ناصر کاظمی نے سرگودھا کے لیے “زندہ دلوں کا گہواہ، سرگودھا میرا شہر” نغمہ تحریر کیا، جسے عنایت حسین بھٹی نے بڑی محبت سے گایا۔ یہ نغمہ اہل سرگودھا کے دلوں کو گرماتا رہا اور وہ بھارت کا مقابلہ کرتے رہے۔

افغانستان میں داخلے پر ان کے لیے احمد شاہ محسود کی طرف سے گھوڑے بھجوائے گئے تھے۔ یہ ایک اعزاز اور عزت کی بات تھی کہ اس ہیرو کو وہاں بھی اسی تکریم سے نوازا گیا جیسی انہیں پاکستان میں میسر آئی تھی۔

میانوالی پاک فضائیہ کا ایک اہم آپریشنل اور ٹریننگ بیس ہے۔
یہاں ہر ہواباز کو آپریشنل اور فائٹر کنورجن کے لیے جانا پڑتا ہے۔
پاک فضائیہ کے میانوالی بیس پر ہی پاکستان کی پہلی فائٹر پائلٹ مریم مختار نے شہادت کا مرتبہ پایا تھا۔
ایم ایم عالم کے انتقال کے بعد میانوالی بیس کو پی اے ایف بیس ایم ایم عالم سے موسوم کر دیا گیا۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

یہ شخصیات تھیں، حضرت حسین، سلطان صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان اور محمود غزنوی۔
آپ نے مزید بتایا کہ ایک روز حضرت امام حسین ان کے خواب میں تشریف لائے اور انہوں نے تین چیزیں آپ کے ہاتھوں میں تھمائیں۔
ایک تھی تلوار، ذوالفقار جیسے، آپ نے تھام کر واپس لوٹا دیا۔
دوسرا تھا عمامہ رسول ﷺ، اسے آپ نے چوم کر واپس لوٹا دیا۔
اور ایک بہت طویل وعریض علم تھا۔
آپ نے فرمایا کہ یہ ارض پاکستان پر لہراتا رہے۔
انشاء اللہ، پاکستان کی حفاظت ہمیشہ رہے گی۔

محمد محمود عالم (جنہیں ایم ایم عالم بھی کہا جاتا ہے) پاکستان کے جنگی ہواباز تھے۔
جن کی وجہ شہرت ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے مار گرانے کا ریکارڈ ہے۔
ایم ایم عالم کا پورا نام محمد محمود عالم ہے۔
ایم ایم عالم پاک بھارت جنگ 1965ء کے نامور پاکستانی جنگی ہواباز ہیں، جنھوں نے 7 ستمبر 1965ء کو بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے ایک منٹ سے کم وقت میں مار گرائے تھے۔
کسی بھی جنگ کے دوران ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے مار گرانے کا یہ عالمی ریکارڈ ہے۔



