Table of Contents
America kay Baad ki Dunya book
باب :1 دوسری قوموں کا عروج 7 باب :2 پیالہ جو چھلک گیا 11 اسلامی دھمکی 15 عظیم تروسعت 21 تین طاقتیں: سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی 24 کثیر مسائل 29 قوم پرستی کا عروج 34 آخری سپر پاور 41 باب :3 غیر مغربی دنیا 50 طاقت بمقابلہ کمزوری 57 کیا کلچر قسمت ہے؟ 59 جیت کی بربادیاں 63 مغریبت 67 جدیدت 70 پرانے أسلوب کا خاتمہ 73 مشترکہ مستقبل 77 باب :4 چیلنجز 83 مرکزی منصوبہ بندی 88 روشنی کو چھپانا 98 خدا اور خارجہ پالیسی 102 مغرب کا اثر 107

فہرستِ مضامین
107 — چھپانے کے لئے بڑا
116 — اژدھا اور باز
121 — اتحادی باب: 5
124 — ترقی کی طرف گامزن سفر
131 — حکومت کی ضرورت
137 — بے آنکھ اور بے دانت
143 — دنیا کے متعلق ہندو رائے
147 — جوہری طاقت
151 — جغرافیائی وضع
156 — امریکی طاقت باب: 6
157 — برطانوی رسائی
159 — برطانیہ کا تنزل
162 — برطانوی طاقت کا عجیب و غریب عروج
164 — اچھی سیاست اور بری معیشت
168 — امریکہ کی طویل دوڑ
169 — مستقبل یہاں ہے
173 — امریکہ کی بہترین صنعیت
177 — سیکھنے کے لئے سوچ
181 — امریکہ کا خفیہ ہتھیار
187 — ہر چیز کھیل کھیل رہی ہے
194 — کچھ نہ کرنے والی سیاست
199 — امریکی مقصد باب: 7
202 — مقابلے کے اوصاف
208 — اس وقت یہ مختلف ہے
212 — نئے دور کے قوانین

انڈیا میں تعصب تھا۔ ہر چیز نچلی اور اونچی ذات کے ہندوؤں کے لئے مختلف تھی۔ ہندوؤں کا عقیدہ اور عمل ان کی ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ لیکن جب وہ مذہب کے اثر سے نکل آئے تو انھوں نے ترقی کی۔

برطانیہ جس کا خزانہ افیون سے ہونے والی آمدنی کا عادی ہو چکا تھا، اس نے ایک سمندری حملہ کر دیا۔ اینگلو چائنیز جنگیں، جو اکثر افیون کی جنگیں کہلاتی ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان طاقت کے توازن کو ظاہر کرتی ہیں۔ 1842ء کی جنگ کے نتیجے میں بیجنگ افیون کی تجارت کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کئی قسم کی مراعات دینے پر راضی ہونے پر مجبور ہو گیا۔
چین نے ہانگ کانگ میں ہتھیار ڈال دیے، برطانوی باشندوں کے لیے پانچ بندرگاہیں کھول دیں، تمام برطانویوں کو چینی قانون سے مبرا قرار دیا گیا، اور ایک بھاری جرمانہ بھی ادا کیا۔

کمال اتاترک وہ شخص تھا جس نے 1922ء میں تباہ شدہ سلطنتِ عثمانیہ کی حکومت سنبھالی اور اعلان کیا کہ ترکی کو اپنے ماضی کو بھول جانا چاہیے اور یورپی ثقافت کو اختیار کرنا چاہیے تاکہ مغرب کو “پکڑا” جا سکے۔
اس نے ایک سیکولر ریاست کی بنیاد رکھی۔

حکومت چاہے جمہوریت کی ہو یا آمریت کی، ناکامی ہمیشہ خراب پالیسیوں اور بدانتظامی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
بی جے پی نے مسلمانوں کے خلاف ہندو دشمنی کو ہوا دی، اور ہندوستان کی مسلمان آبادی کا ہر طرح استحصال کیا گیا، کیونکہ تقسیم سے پہلے جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہ علاقے تقسیم کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان میں شامل ہو گئے۔ اب ہندوستان میں مسلمان ایک کمزور اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ہندوستان کے حکام نہایت خاموشی سے اشارہ کرتے ہیں کہ چین کی جوہری افزودگی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ چین نے ایٹمی پروگرام میں پاکستان کی مدد کی ہے۔

جب اندرا گاندھی نے 1970ء میں ملک کو مرکزی اور آمرانہ طور پر چلانے کی کوشش کی تو اس کی چھ ریاستوں میں مشتعل بغاوتیں پھوٹ پڑیں۔
بی جے پی ہندوستان کی مسلمان اقلیت کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر ہندوتوا اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ نچلی ذات کے ہندو اور جنوبی ہندوستانی فسادات سے خوفزدہ ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔

جب 1942ء میں جاپانیوں نے حملہ کیا تو سنگاپور صرف ایک ہفتے میں فتح ہو گیا تھا۔



