Table of Contents
Mazhab aur Science
| شمارہ | عنوان | صفحہ نمبر |
|---|---|---|
| 1 | دیباچہ | 4 |
| 2 | طریقہ استدلال کا مسئلہ | 8 |
| 3 | برٹرینڈ رسل کے خیالات | 21 |
| 4 | آخری بات | 32 |
| 5 | کائنات کی مشینی تعبیر | 33 |
| 6 | کچھ نئی حقیقتیں | 41 |
| 7 | مذہب اور سائنس | 47 |
| 8 | انسان، کس کو سائنس دریافت نہ کر سکی | 62 |
| 9 | دورِ جدید کا مذہب — تعارف | 70 |
| 10 | جائزہ | 77 |
| 11 | مذہب کی ملحدانہ تشریح | 83 |
| 12 | تبصرہ | 86 |
| 13 | ببلیوگرافی | 91 |

اسی طرح چارلس ڈارون نے اپنی مشہور کتاب اصلُ الانواع میں ایک سے زیادہ مقام پر خدا کے وجود کا اقرار کیا ہے۔ مثلاً اس نے اپنی اس کتاب کے آخری پیراگراف میں لکھا ہے کہ زندگی کے اس تصور میں کتنی عظمت ہے کہ خالق نے آغاز میں زندگی کی ایک یا اس سے زیادہ ابتدائی شکلیں پیدا کیں اور پھر اس آغاز سے ہماری زمین کے اوپر زندگی کی بے شمار قسمیں ظہور میں آئیں:
There is grandeur in this view of life, with its several powers, having been originally breathed by the Creator into a few forms or into one.
حقیقت یہ ہے کہ سائنس خدا کا انکار نہیں کرتی۔ البتہ کچھ ملحد فلسفیوں نے سائنس کو انکارِ خدا کی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، جو اپنے ابتدائی مرحلے ہی میں ناکام ہو گئی۔

مثال کے طور پر الیکٹران بذات خود ایک ناقابلِ مشاہدہ چیز ہے۔ وہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ نہ کوئی خوردبین اسے دکھا سکتی ہے اور نہ کوئی ترازو اسے تول سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود سائنس کی دنیا میں الیکٹران کو ایک حقیقت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ الیکٹران بذاتِ خود تو نظر نہیں آتا، مگر اس کے کچھ ایسے اثرات قابلِ اعادہ تجربات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں جن کی توجیہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ ہم الیکٹران جیسے ایک نظام کا وجود فرض کریں۔ الیکٹران بذاتِ خود ایک مفروضہ ہے، مگر اس مفروضے کی بنیاد چونکہ بالواسطہ تجربے پر ہے، اس لیے سائنس اسے تسلیم کرتی ہے۔



