Table of Contents
The contractor book in Urdu
| صفحہ نمبر | عنوان | نمبر شمار |
|---|---|---|
| 7 | اظہار مصنف | |
| 9 | مزنگ چوک لاہور پاکستان (27 جنوری، پہلا دن) | 1 |
| 16 | بگ سٹون گیپ، ورجینیا | 2 |
| 22 | کابل، أفغانستان | 3 |
| 27 | مزنگ چوک لاہور پاکستان (27 جنوری، پہلا دن) | 4 |
| 29 | مزنگ چوک، لاہور، پاکستان | 5 |
| 34 | پرانی انار کلی بازار، لاہور (پہلا دن) | 6 |
| 41 | پرانی انار کلی پولیس اسٹیشن، لاہور | 7 |
| 50 | امریکی سفارت خانہ، اسلام آباد | 8 |
| 53 | لاہور کنٹونمنٹ، لاہور | 9 |
| 59 | لاہور کنٹونمنٹ، لاہور (28 جنوری، دوسرا دن) | 10 |
| 65 | لاہور کنٹونمنٹ، لاہور (29 جنوری، دوسرا دن) | 11 |
| 71 | لاہور پولیس ٹریننگ کالج، لاہور (یکم فروری، چھٹا دن) | 12 |
| 75 | لاہور پولیس ٹریننگ کالج، لاہور (6 فروری، 11 واں دن) | 13 |

| صفحہ نمبر | عنوان | نمبر شمار |
|---|---|---|
| 79 | لاہور پولیس ٹریننگ کالج، لاہور (10 فروری، 15 واں دن) | 14 |
| 84 | ماڈل ٹاؤن کچہری، لاہور (10 فروری، 16 واں دن) | 15 |
| 91 | قونصل جنرل ریذیڈنس، لاہور (15 فروری، 20 واں دن) | 16 |
| 100 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (16 فروری، 21 واں دن) | 17 |
| 102 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (17 فروری، 22 واں دن) | 18 |
| 108 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (19 فروری، 24 واں دن) | 19 |
| 113 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (20 فروری، 25 واں دن) | 20 |
| 120 | ہائیلینڈ رانچ، کلوروڈو (20 فروری، 25 واں دن) | 21 |
| 122 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (20 فروری، 25 واں دن) | 22 |
| 124 | مسقط، عمان (23 فروری، 28 واں دن) | 23 |
| 129 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (3 مارچ، 36 واں دن) | 24 |
| 134 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (14 مارچ، 47 واں دن) | 25 |
| 136 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (1 مارچ، 40 واں دن) | 26 |
| 140 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (16 مارچ، 49 واں دن) | 27 |
| 146 | کوٹ لکھپت جیل، لاہور (16 مارچ، 49 واں دن) | 28 |
| 152 | کابل ائیر سپیس (16 مارچ، 49 واں دن) | 29 |
| 156 | اختتامیہ | 30 |

کرزئی نے اپنی عمر کا کچھ حصہ یورپ اور امریکہ میں گزارا تھا، اس لیے وہ امریکہ کے لیے قابل قبول تھے۔
کرزئی 5 ستمبر 2002 کو اپنے آبائی شہر قندھار میں اپنے چھوٹے بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد گورنر گل آغا شیرازی کو چھوڑ کر جا رہے تھے کہ محل کے ایک گارڈ نے پستول نکال کر کرزئی کی طرف فائر کر دیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں کرزئی اور ایک امریکی سپیشل آپریشن آفیسر زخمی ہو گئے۔ بحریہ کے سیلرز، جو کرزئی کی سیکورٹی پر مامور تھے، نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے قاتلوں کو ہلاک کر دیا۔
ہماری بنیادی ذمہ داری حامد کرزئی کی حفاظت تھی۔ ایک موقع پر حامد کرزئی کو سابق مجاہد لیڈر اسماعیل خان سے ملاقات کرنی تھی۔ اسماعیل خان نے 1980 کی دہائی میں روس کے خلاف سی آئی اے کے تعاون سے جاری جہاد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اسماعیل خان نے صوبہ ہرات کے گورنر کے طور پر اس علاقے پر ایسے حکمرانی کی جیسے یہ اس کی ذاتی سلطنت ہو۔ حامد کرزئی چاہتے تھے کہ اسماعیل خان ان کے نائب صدر کے طور پر کام کریں۔ یہ ملاقات اسی مقصد کے لیے طے کی گئی تھی۔

پاکستان کے بارے میں، میں جانتا تھا کہ اگرچہ یہاں پارلیمانی نظام حکومت ہے۔ صدر ملک کا آئینی طور پر سربراہ اور وزیراعظم حکومتی سربراہ ہیں، لیکن اس کے باوجود اصل طاقت فوج کے پاس ہے۔

ایک اور پولیس آفیسر نے مجھ سے براہِ راست تفتیش کی۔ وہ بے تکلفی کے ساتھ کمرے میں بیٹھا اور بتایا کہ اسے امریکی ایف بی آئی نے تربیت دی ہے۔
اس کا انداز باقی پولیس افسروں سے قطعی مختلف تھا۔ سیفد شرٹ اور ٹائی میں وہ پولیس افسر کے بجائے بینکر لگتا تھا۔

جب پاکستان 1947 میں معرض وجود میں آیا تو برطانوی انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں جو فوج اس نوآبادیہ ملک کے حصے میں آئی، اسے سنبھالنا ایک مشکل کام تھا۔
اس وقت کے لیڈروں نے فیصلہ کیا کہ بھارت جیسے بڑے ملک سے اپنے آپ کو بچانا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ حالانکہ انہیں فوج اور اس کے اخراجات کم کرنے کی ضرورت تھی، لیکن پاکستان نے بجائے اس کے فوجی اخراجات بڑھا دیے۔
1950 میں پاکستان نے اپنے کل بجٹ کا 60 فیصد فوج پر لگا دیا۔ اس دوران کوئی نئی انڈسٹری نہیں لگائی گئی، جس سے ملکی معیشت بہتر ہو سکتی تھی۔ یوں تمام تر توانائیاں معیشت بہتر کرنے کے بجائے فوج کو مضبوط کرنے پر خرچ کی گئیں۔
اس دوران امریکہ نے پاکستان کو 10 ملین ڈالر کی امداد دی اور یقین دہانی حاصل کی کہ پاکستان خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ پاکستان نے اس معاہدے سے کئی فوائد حاصل کیے۔
سرد جنگ کے دوران پاکستان، روس کے خلاف افغان جنگ کا ایندھن بنا۔ دونوں ممالک کے اپنے مفادات تھے۔ افغانستان میں سی آئی اے نے پاکستان کی آشیرباد سے مجاہدین کو پشت پناہی دی، انہیں تربیت دی اور جہاد کروایا، جس کے نتیجے میں بعد میں القاعدہ کا جنم ہوا۔

پاکستان کو یہ امدادی رقم کافی نہیں لگ رہی تھی۔ امریکہ کی اس امداد کی بدولت پاکستان ایک منشیات پیدا کرنے والا ملک بن گیا، جو اب بغیر امداد کے قائم نہیں رہ سکتا۔
1954 سے 1959 کے درمیان، امریکہ نے پاکستان کو 1.28 بلین ڈالر کی امداد دی۔ 2011 تک، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی مجموعی امداد 67 بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
نائن الیون کے بعد، امریکہ نے پاکستان کی امداد کو کولیشن فنڈز سے مشروط کر دیا اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کرے۔ اس پالیسی نے پاکستانی فوج کی دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کی حوصلہ افزائی کی۔
امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں ایک رخنہ یہ بھی تھا کہ امریکہ سمجھتا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد زیادہ تر پاکستانی فوج کے پاس چلی جاتی ہے۔

اسی روز تحریکِ طالبان پاکستان نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ اگر پاکستانی حکمرانوں نے مجھے امریکہ کے حوالے کیا تو وہ ان حکمرانوں کو نشانہ بنائیں گے۔

2001 میں اسامہ کے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے یہ سی آئی اے کی سب سے بڑی کامیابی تھی، جب وہ افغانستان کے تورہ بورہ سے فرار ہو گیا تھا۔

آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے 14 مارچ کو اس معاملے میں مداخلت کی اور لواحقین کے ان 18 لوگوں کو جیل میں بند کر دیا، جب کہ دو دن بعد یعنی 16 مارچ کو میری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ ان سب کو 16 مارچ تک قید رکھا گیا۔ وکیل بٹ فون کے ذریعے بھی ان میں کسی تک پہنچنے سے قاصر تھا۔ پڑوسیوں نے اسے بتایا کہ وہ لوگ اچانک غائب ہو گئے ہیں۔
16 مارچ کو میری قسمت کا فیصلہ تھا۔ 16 مارچ سے ایک رات قبل آئی ایس آئی نے خاندان کے تمام افراد کو کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کر دیا اور انہیں یہ باور کرایا کہ اگر وہ دیت قبول کر لیں تو انہیں بدلے میں ایک بڑی رقم دی جائے گی۔
انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو نتائج اگلی صبح واضح کر دیے جائیں گے۔ انہیں عدالت کے باہر گن پوائنٹ پر کئی گھنٹے قید رکھا گیا اور سختی سے میڈیا کے سامنے ایک لفظ بھی بولنے سے روکا گیا۔

پھر ان کو رسید دی گئی، جس میں 18 افراد کو دی جانے والی رقم درج تھی۔ فی کس ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر اور کل 23 لاکھ 40 ہزار ڈالر۔
پاکستان کی تاریخ میں خون بہا کے طور پر دی جانے والی یہ سب سے بڑی رقم تھی۔

“پیسے آئی ایس آئی نے دیے تھے اور بعد میں امریکہ نے یہ رقم پاکستانی حکومت کو ادا کر دی تھی۔
آئی ایس آئی میرے باہر آنے کی تخلیق کار تھی۔”




اسلام علیکم سر آپ بہت نیک کام کر رہے ہیں اس سے ہمیں تعلیم اور مطالعہ سے لگاؤ دونوں ملتے ہیں معاشرتی تعمیر میں کردار ادا کرنے پر ہم آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ آپ ایک گروپ بنائیں جیسے آر جے لائبریری جس میں یہ کتب پی ڈی ایف میں شیر کریں
وعلیکم اسلام
کسی بھی کتاب کی پی ڈی ایف بنانا غیر قانونی ہے جو کے کاپی رائٹ وایلیشن میں اتی ہے۔
جتنا اجازت ہے کتاب کو شیر کرنا کا اتنا ہی شیر اور اپلوڈ کر رہا ہو۔
پی ڈی ایف بنا کر کتابیں ساتھ میں اپلوڈ کرنے سے ویب سائٹ بند ہوتا ہے۔
باقی مزید معلومات کے لئے اپ ہمارے واٹسپ چینل بھی فالو کریں۔
لینک: https://whatsapp.com/channel/0029VbCAG9QKrWQw1Wg3EA2j